بائیومیٹرک تصدیق: مریض کی درست شناخت کا محفوظ نظام
صحت کارڈ پلس خیبر پختونخوا کے تحت ہسپتال میں داخلے کے عمل میں بائیومیٹرک تصدیق مریض کی شناخت کے اہم مراحل میں شامل ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صحت کی سہولت درست مریض تک پہنچے اور اس کا علاجی ریکارڈ درست شناخت کے ساتھ منسلک رہے۔
بائیومیٹرک تصدیق کیوں کی جاتی ہے؟
جب کوئی مریض صحت کارڈ پلس کے تحت ہسپتال میں داخلے کے لیے آتا ہے تو علاج کا عمل شروع کرنے سے پہلے اس کی شناخت کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
مریض کا شناختی کارڈ نمبر شناخت کے بنیادی حوالے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ پروگرام کے مستفید افراد کی معلومات نادرا کے ریکارڈ سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے مریض کی شناخت اور متعلقہ معلومات کی درستگی کو جانچنے میں مدد ملتی ہے۔
ہسپتال میں داخلے کے وقت مریض کو اپنا شناختی کارڈ پیش کرنا ہوتا ہے، جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے فارم ب شناخت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صحت کارڈ پلس کاؤنٹر پر موجود ہیلتھ فسیلیٹیشن آفیسر ابتدائی شناخت کی تصدیق کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی دستاویزات بھی طلب کر سکتا ہے۔
ایک مریض، ایک شناخت، ایک مربوط ریکارڈ
مریض کی شناخت کی تصدیق صرف ہسپتال میں داخلے تک محدود نہیں۔
جب مریض کی شناخت درست طور پر تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے علاج سے متعلق معلومات کو اسی شناخت کے ساتھ منسلک رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح صحت کارڈ پلس کے تحت مختلف ہسپتالوں میں حاصل کیے گئے علاج کا ریکارڈ ایک مربوط نظام کے تحت مریض کی شناخت سے منسلک رہ سکتا ہے۔
اس طریقہ کار سے مریض کے علاج سے متعلق معلومات کو درست شناخت کے ساتھ مربوط رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اگر بائیومیٹرک تصدیق نہ ہو سکے تو؟
ہر مریض کے لیے بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہونا ممکن نہیں ہوتا۔
کسی بھی وجہ سے اگر بائیومیٹرک تصدیق کامیاب نہ ہو سکے تو شناخت کی تصدیق کے لیے متبادل طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ایسی صورت میں سسٹم سے منسلک کیمرے کے ذریعے مریض کی تصویر حاصل کی جا سکتی ہے تاکہ شناخت کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
یہ طریقہ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہے جن کے لیے بائیومیٹرک تصدیق ممکن یا آسان نہ ہو۔ عمر رسیدہ افراد اور بچوں کے لیے متبادل شناختی طریقہ کار کا ذکر موجود ہے۔
اگر مریض صحت کارڈ کاؤنٹر تک نہ آ سکے تو؟
بعض مریضوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ انہیں صحت کارڈ کاؤنٹر تک لانا ممکن نہیں ہوتا مثلاً مریض شدید چوٹ کا شکار ہو، ہنگامی صورتحال میں ہو، ہسپتال کے وارڈ میں زیرِ علاج ہو، جسمانی طور پر کاؤنٹر تک آنے کے قابل نہ ہو ایسی صورتحال میں مریض کی شناخت کی تصدیق وارڈ میں اس کے بیڈ پر ہی کی جا سکتی ہے۔
ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر کی موبائل ایپ کے ذریعے مریض کی بائیومیٹرک یا تصویر کے ذریعے تصدیق مریض کے بیڈ پر کی جا سکتی ہے، تاکہ مریض کو کاؤنٹر تک لانے کی ضرورت نہ پڑے۔